میرا نام آصف جٹ ہے اور میں ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر ہوں۔ میری پیدائش راولپنڈی میں ہوئی، جبکہ میرا آبائی گاؤں پنڈ پنجوڑیاں، تحصیل کھاریاں میں واقع ہے۔ میری زندگی کے ابتدائی دن سادہ تھے، لیکن میرے خواب ہمیشہ بڑے تھے۔

1993 میں ہم بمعہ فیملی حصول تعلیم کے لیے جہلم شفٹ ہو گئے، جہاں ہم نے ایک چھوٹا سا کرائے کا گھر لیا۔ میرے والد صاحب سعودی عرب میں مزدوری کرتے تھے اور وہیں سے ہمارے گھر کے اخراجات اور ہماری تعلیم کے لیے پیسے بھیجتے تھے۔ ان کی محنت اور قربانی نے مجھے زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔

2007 سے 2009 تک میں خود بھی سعودی عرب گیا اور وہاں مزدوری کی۔ یہ وقت میری زندگی کا ایک اہم مرحلہ تھا، جہاں میں نے محنت، صبر اور ذمہ داری کا حقیقی مطلب سیکھا۔ 2009 میں پاکستان واپس آکر میں نے مختلف کام کیے۔ سب سے پہلے انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر کے طور پر کام کیا، پھر یوفون میں ملازمت کی، اور اس کے بعد ایک انٹرنیٹ کیفے میں بھی کام کیا۔

میری زندگی میں ایک بڑا موڑ اس وقت آیا جب میں نے ریڈیو جوائن کیا۔ 2015 سے 2020 تک میں ریڈیو سے وابستہ رہا اور اپنی آواز اور خیالات کے ذریعے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچایا۔ 2016 میں مجھے ایک پرائیویٹ سیٹلائٹ چینل پر کام کرنے کا موقع ملا اور اسی دوران میں پریس کلب کا ممبر بھی بنا۔

اسی سال، 2016 میں، میں نے “آصف جٹ” کے نام سے اپنا فیس بک پیج بنایا۔ اس پلیٹ فارم پر میں نے اپنی ویڈیوز اور اپنی سوچ کے مطابق مواد بنانا شروع کیا۔ لوگوں کا ردعمل آہستہ آہستہ بڑھتا گیا اور مجھے اپنی ایک پہچان ملنے لگی۔

پرائیویٹ سیٹلائٹ چینل کے بعد میں نے روز نیوز جوائن کیا اور ساتھ ہی انٹرنیشنل ریڈیو سنگم کا بھی حصہ بنا۔ لیکن اس سب کے ساتھ میرا اصل فوکس ہمیشہ میرا اپنا پلیٹ فارم “آصف جٹ” رہا۔

2021 تک میرے پیج کے فالوورز 5 سے 6 لاکھ تک پہنچ گئے۔ یہ وہ وقت تھا جب میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی مکمل توجہ سوشل میڈیا پر مرکوز کروں گا۔ میں نے ریڈیو اور ٹی وی سے پیچھے ہٹ کر اپنی تمام توانائی اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر لگا دی۔

آج، اللہ کے کرم سے، میں ایک کامیاب سوشل میڈیا انفلوئنسر ہوں، جس کے مختلف پلیٹ فارمز پر 10 ملین سے زائد فالوورز ہیں۔ میرے پوڈکاسٹس اور ویڈیوز کے ذریعے میں اپنی کہانی، اپنی سوچ اور اپنی محنت کا پیغام لوگوں تک پہنچاتا ہوں۔

میری زندگی کا یہ سفر ایک عام انسان سے ایک کامیاب انفلوئنسر بننے تک کا ہے، جو صرف محنت، مستقل مزاجی اور اپنے خوابوں پر یقین کی بدولت ممکن ہوا۔